Why Study in China is a Good Choice?

0
104
Beihang University, China
Photo Credit: Beihang University, China http://www.cmu.edu/dietrich/english/news/2015/james-wynn-china.html

An article written by Kamran Amin about Why Study in China is a Good Choice? Kamran is curently studying in China. He shared his experience through words. Read it

اعلی تعلیم کے لئے چائنہ ایک اچھا انتخاب کیوں ؟

چائنہ میں تعلیم جاری رکھے ہوئے مجھے دو سال ہو چکے ہیں۔ جان پہچان والا کوئی دوست اب بھی ملتا ہے تو سوال یہی ہوتا ہے یا ر تم چائنہ کیوں چلے گئے ؟ تم جیسے طالب علموں کو یورپ یا امریکہ کا رخ کرنا چاہئے تھا۔ خیر میں اب اس طرح کی باتوں کا عادی ہوں ۔ کچھ عرصہ قبل جب میں نے انجنینئرنگ یونیورسٹی چھوڑ کر پرسٹن میں بی ایس نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا ۔ تو احباب میں سے ہر ایک نے حسب توفیق خوب برا بھلا کہا ۔ ہمارے ہاں ٹرینڈ یہ ہے کہ اچھے طالب علم کو یا تو ڈاکٹر بننا چاہئے یا انجینئر دوسری کسی طرف دھیان ہی نہیں جاتا ۔ باتیں کرنے والے تو باتیں کرتے ہیں لیکن کچھ اچھے طالب علم اسی شش و پنج میں راستے سے ہٹ جاتے ہیں ، کچھ کو مایوسیاں گھیر لیتی ہیں ۔ ہمارے ہاں اکچر طالب علموں کو یورپ کے بارے میں پتہ ہوتا ہے ، لیکن ایک تو وہاں داخلہ مشکل سے ملتا ہے دوسرا وہ سکالرشپس بہت کم دیتے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کو خود سے اچھا خاصہ خرچہ کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں غریب مگر لائق طالب علم خاموشی سے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں ایسے تما م دوستوں کے لئے میں نے سوچا کہ کچھ لکھا جائے ۔ یہ پہلا سوال ہے اور آنے والے دنوں میں کوشش کروں گا کہ اس کے جواب میں کچھ دلائل دے سکوں ۔
چائنہ کے بارے میں ہمارے ملک میں بے انتہا غلط فہمیاں ہیں ۔ ایک عام بات یہ کہ چائہ کا مال دو نمبر ہوتا ہے ۔ لیکن چائنہ اترتے ہی جو پہلی چیز حیران کرتی ہے وہ یہ کہ دنیا کی تقریبا ً ہر بڑی کمپنی کا پروڈکشن یونٹ چائنہ میں ضرور ہوتا ہے یاوہ چینی کمپینیوں سے مال خرید کر اپنا برانڈ لگا کر فروخت کر دیتے ہیں۔ چونکہ چائنی سے انے والی چیزیں دو نمبر ہوتی ہیں لہذا بہت سارے احباب یہ فرض کر لیتے ہیں کہ وہاں سے آنے والی تعلیم بھی دو نمبر ہی ہو گی یو کوئی خاص معیار کی نہیں ۔
تو جناب اگر آ پ نے بھی گریجویشن مکمل کر لی ہے اور مزید اعلی تعلیم کے لئے آپ بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں تو میرے خیال میں چائنہ ایک بہترین انتخاب ہے ۔ اگر آپ کا یورپ یا امریکہ کی کسی اچھی یونیورسٹی میں سکالر شپ پر داخلہ ہو جاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر نہیں ہوتا تو مایوس با لکل نہ ہوں چائنہ ہے نہ۔ آپ چائنہ کے لئے کوشش کریں کیوں کہ چائنہ میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیاں ہیں ۔ یونیورسٹیوں کا معیار جانچنے کا ایک پیمانہ عالمی سطح پر ان کی رینکنگ ہے جو مختلف اداروں کی طرف سے شائع ہوتی ہے ۔ کیو ایس رینکنگ ان میں ایک با وقار ادارہ ہے ۔ 2016 میں کیو ایس رینکنگ کے مطابق چائنہ کی 4 یونیورسٹیاں دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں شامل تھیں ۔2017 میں یہ تعداد بڑھ کر 5 ہو چکی ہے ۔ ہانگ کانگ جو کہ چائنہ کے زیر انتطام علاقہ ہے اس کو بھی شامل کریں تو یہ تعداد 8 ہو جاتی ہے۔نہ صرف تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں بھی بہتری ہوئی ہے مثال کے طور پر شنگخواہ اور پیکنگ یونیورسٹی کی 2016 میں رینکنگ بالترتیب 25 اور 41 تھی جبکہ 2017 میں یہ 24 اور 39 ہو گئی ہے ۔ رینکنگ کا یہ معیار کتنا مشکل ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت اور باقی پوری مسلم دنیا سے کوئی ایک بھی یونیورسٹی ٹاپ 100 میں شامل نہیں ہے ۔
ابھی تک ہم نے رینکنگ کی بات کی تھی ۔ بعض احباب سوال کرتے ہیں کہ چائنہ میں معیار کی تحقیق نہیں ہوتی جیسا کہ یور پ وغیرہ میں ہوتی ہے ۔ اس بات کی وضاحت نیچر پبلششنگ انڈیکس سے سمجھی جا سکتی ہے ۔ نیچر پبلشنگ انڈیکس دنیا بھر میں سائنسی تحقیق شائع کرنے والے انتہائی اہم 68 ایسے جرائد جن میں سائنسدان اپنی تحقیق شائع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں سے ڈیٹا اکٹھا کر کے ترتیب دیا جاتا ہے۔اس سے کسی بھی یونیورسٹی یا ملک میں ہونے والی تحقیق کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ 2014 سے میری یونیورسٹی ( یونیورسٹی آف چائینیز اکیڈمی آف سائنسز ) اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال اس فہرست میں ہاورڈ یونیورسٹی کا دوسرا، آکسفورڈ کا ساتواں اور کیمبرج کا آٹھواں نمبر ہے ۔ اس کے علاوہ اگر بحیثیت ملک جائزہ لیا جائے تو امریکہ اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور چائنہ دوسرے نمبر پر ہے ۔ اسی طرح جرمنی تیسرے ، برطانیہ چوتھے اور جاپان پانچویں نمبر پر ہے ۔ اس بات سے چائنہ میں ہونے والی تحقیق کے معیار کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
سائنسی تحقیق میں استعمال ہونے والے جدید آلات کافی مہنگے ہیں اسی لئے پاکستان جیسے ملکوں میں نایاب تسلیم ہوتے ہیں ۔ اور الیکٹران مائکروسکوپ جو جدید سائنسی تحقیق کا ایک اہم اوزار ہے پاکستان میں خال خال ہی کسی لیبارٹری میں دستیاب ہے اور وہ بھی طلبہ کی پہنچ سے بہت دور۔ لیکن یہاں چائنہ میں یہ لوگ تعلیم پر پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں جس کا نتجہ ہے کہ ان کی لیبارٹریز ہر طرح کے جدید آلات سے بھری ہوئی ہیں ۔ نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (جہاں میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں ) میں ایک ہی چھت کے نیچے ، سکیننگ الیکٹران مائکروسکوپ، ہائی ریزولیوشن ٹرانسمیشن الیکٹران مائکروسکوپ، رامن سپیکٹروسکوپی ، اٹامک فورس مائکروسکوپی، ایکس پی ایس، این ایم آر، کنفوکل لیزر مائکروسکوپی اور ہر طرح کے جدید آلات دستیاب ہیں ۔ اس طرح کے ادارے یورپ اور امریکہ میں بھی بہت ہی کم ہیں جہاں ساری سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں ۔ اس کے علاوہ یورپ یا امریکہ میں مہنگے اور جدید آلات طلبہ کو خود سے استعمال نہیں کرنے دئیے جاتے بلکہ مشین آپریٹرز طلبہ سے سیمپلز لے کر ان کا تجزیہ کرتے ہیں لیکن یہاں چائنہ میں ہر طرح کے مہنگے آلات بھی طلبہ خود استعمال کرتے ہیں بغیر کسی جھجک کے اور اپنی مرضی سے ۔ اور جتنے وقت کے لئے مرضی ہے استعمال کریں کوئی پابندی ہی نہیں ۔ عموماً یہاں نینو سینٹر میں ہم لوگ الیکٹران مائکروسکوپ پوری پوری رات بیٹھ کر استعمال کرتے ہیں ۔ جب میں امریکہ یا یورپ میں موجود اپنے دوستوں سے یہ ساری سہولیات بیان کرتا ہوں تو وہ ہم پر رشک کرتے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بعض انتہائی مشہور یورپی اداروں نے یہاں کی یونیورسٹیز سے اس طرح کا معاہدہ کیا ہوا ہے کہ ان اداروں کو یہاں کی سہولیات سے استفادہ کرنے دیا جائے گا۔
چائنہ میں پڑھنے کی ایک اور وجہ یہاں وافر مقدار میں دستیاب سکالرشپ بھی ہیں۔ چائنہ میں ہر سال 300 کے قریب مختلف یونیورسٹیوں میں تقریباً سوا دو لاکھ (225000) ہزار غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے اور ہر سال اس میں 5 فی صد اضافہ کیا جاتا ہے۔اس طرح چائنہ دنیا میں غیر ملکی طالب علموں کا سکالر شپ فراہم کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے ۔ سکالر شپ میں ٹیوشن فیس کی معافی سے لے کر رہائش اور اضافی جیب خرچ شامل ہوتا ہے ۔ جیب خرچ کی مقدار 20 ہزار پاکستانی روپے سے لے کر ایک لاکھ پاکستانی روپے تک ہو سکتی ہے۔ چائنیز گورنمنٹ سکالرشپس، چائنیز یونیورسٹیز سکالرشپس اور کیس -ٹواس پریذیڈنٹ سکالرشپس چند مشہور ایوارڈز ہیں جو غیر ملکیوں کو دیے جاتے ہیں ۔
حال ہی میں بیلٹ اینڈ روڈ سکالرشپس کے نام سے ایک نئی سکالرشپس کا اجرا ہوا جو با لخصوص پاکستان اور ان ممالک کے لئے جہاں چائنہ ترقیاتی کاموں میں بہت دلچسپی لے رہا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستانی طلبہ کو سکالرشپس دینے میں چینی حکام بہت فراخ دل واقع ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی خاص میرٹ یا ضابطہ بھی ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ مثال کے طور پر روڈ اینڈ بیلٹ سکالرشپس میں میری یونیورسٹی (یونیورسٹی آف چائنیزاکیڈمی آف سائنسز ) میں اس سال مجموعی طور پر 17 ممالک کے 120 طلبہ منتخب ہوئے ہیں جن میں سے 28 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اسی طرح باقی یونیورسٹیاں بھی پاکستانی طلبہ کو کشادہ دلی سے داخلہ دیتی ہیں ۔
چائنہ میں داخلہ لینے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی طرح کا زبان کا کوئی ٹیسٹ یا مہنگا قسم کا کوئی امتحان نہیں دینا پڑتا۔ یورپ یا امریکہ جانے والوں کے انگلش زبان کے انتہائی مہنگے ٹیسٹ پاس کرنے ضروری ہوتے ہیں پھر بعض ممالک میں مخصوص قسم کے سبجیکٹ ٹیسٹ الگ سے ہوتے ہیں اور اس سارے پراسیس کی فیس اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک غریب طالب علم اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ لیکن چائنہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ زبان کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی امتحان اور نہ کوئی فیس جمع کروانے کی ضرورت۔ بین الاقوامی طلبہ کے لئے پڑھائی کا نصاب انگلش میں ہوتا ہے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں پر یونیورسٹی خود پہلے ایک سال کا زبان کا کورس کرواتی ہے اور پھر باقاعدہ پڑھائی شروع ہوتی ہے ۔ داخلہ کی پروسیسینگ فیس کچھ ادارے وصول کرتے ہیں جو تقریباً 10 ہزار پاکستانی روپوں کے برابر ہوتی ہے اور یہ فیس بھی اکثر پروفیسر اپنی جیب سے ادا کر دیتا ہے ۔ طالب علم کو کچھ نہیں دینا پڑتا۔
ایک اور فائدے والی بات یہ ہے کہ چائنہ میں کسی قسم کی نسلی منافرت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو اب یورپ اور امریکہ میں جڑیں پکڑ رہی ہے ۔ وہاں ایشیائی طالب علموں سے نسل پرستانہ سلوک عام سی بات ہے ۔ کچھ دن پہلے ہی امریکہ میں ایک مسلمان لڑکی کو روڈ پر ہلاک کر دیا گیا۔ لیکن یہاں چائنہ میں اس طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ کسی چینی کو اگر پتہ چلتا ہے کہ آپ پاکستان سے ہیں تو جذبات دیکھنے والے ہوتے ہیں بعض دفعہ فوراً گلے لگ جاتے ہیں ۔ اور یہ تو عام سا فقرہ ہے کہ پاکستان چائنہ کا بہترین دوست ہے۔
عموماً پاکستان میں مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں سہولیات کی بہت کمی ہوتی ہے اوپر سے جو کچھ موجود ہوتا ہے اس میں بھی کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو ٹھیک کروانے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے چائنہ تعلیم میں پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی لیبارٹریز میں اس طرح کے مسئلے نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ ہمارے انسٹیٹیوٹ میں کیمیکلز وغیرہ کی خریداری کے لئے ہر طالب کا ایک اکائونٹ بنا یا گیا ہے جو پروفیسر کے اکائونٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ طالب علم خود اپنی مرضی کی چیز آرڈر کرتا ہے اور اس کے پیسے پروفیسر کے اکائونٹ سے کٹ جاتے ہیں ۔ ایک دن پہلے آرڈر کریں اگلے دن کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ۔ اس طرح ان چیزوں میں وقت کا ضیاع نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
میں بیجنگ میں ہوں اور اس کے قرب و جوار میں بہت سارے تاریخی مقامات ہیں ۔ گردونواح میں کافی ساری خوبصورت جگہیں بھی ہیں۔ اسی طرح پورے چائنہ میں خوبصورت صحت افزا مقامات کے ساتھ تاریخی جگہوں کی بھی بھرمار ہے ۔ اکثر طالب علم چھٹیوں میں لمبی سیر و سیاحت پر نکلے ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی طالب علم پورے چائنہ میں بلا کسی روک رکاوٹ کہیں بھی گھو سکتا ہے ۔ بعض سیاحتی ادارے غیر ملکی طلبہ کو ان کا گروپ جوائن کرنے پر خصوصی ڈسکائونٹ بھی دیتے ہیں اس طرح تعلیم اور سیاحت کا مزہ ساتھ ساتھ لیا جا سکتا ہے۔
چائنہ نے تھوڑا عرصہ پہلے ہی اپنی یونیورسٹیوں کے دروازے بین الاقوامی طالب علموں کے لئے کھولے ہیں ۔ یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی رینکنگ بہتر کرنے کے لئے غیر ملکی طلبہ کی مخصوص تعدا کو داخلہ دینا ضروری ہوتا ے۔ یورپ اور امریکہ سے فی الحال زیادہ طالب علم چائنہ کا رخ نہیں کر رہے لہذا یونیورسٹیوں کو مجوراً ایشیائی ممالک سے ہی طالب منتخب کرنے ہوتے ہیں ۔ اس سارے عمل میں فی الحال زیادہ زور صرف تعداد پوری کرنے پر دیا جاتا ہے معیار کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا۔ آنے والے چند سالوں میں یہ صورتحال مکم تبدیل ہو جائے گی کیوں کہ ہر سال یورپی طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کچھ سالوں کے بعد یہاں کی یونیورسٹی میں داخلہ لینا بھی اتنا ہی مشکل ہو جائے گا جتنا کہ آج کل امریکی یونیورسٹیوں میں ہے ۔ لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور چائنہ میں اپلائی کر دیں ۔

Study in China by Kamran Amin
Kamran Amin

MS Research Scholar

National Center for Nanoscience and Technology

Beijing, China

SHARE
Previous articleThe Experience of Holi Festival 2017 in ASU
Next articleNaik Alam – A Success Story from Gilgit Baltistan
Qasim is an accounting and auditing professional in Pakistan, where he graduated from University of Peshawar with a degree in Commerce, majoring in Accounting. Qasim came to Arizona at the invitation of the U.S. Department of State in their Community College Initiative Program. This program is funded by the Bureau of Educational and Cultural Affairs and administered by Northern Virginia Community College as a member of the Community College Consortium. Qasim has more than four years experience in the social sector, specifically, working in donor-funded projects with various international organizations and UN agencies like the World Food Program, United Nations High Commissioner for Refugees, and National Education Foundation of Pakistan, among others. He independently began operations of a small business incubator. Qasim's dream is to become a social entrepreneur and serve his country internationally and domestically.

LEAVE A REPLY